جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 18:31
خوشحال گھرانہ محبت، ذمہ داری اور دینی تربیت سے تشکیل پاتا ہے: مولانا گوہر حسین

حوزہ/ مولانا گوہر حسین نے خطبہ جمعہ میں بیان کیا کہ خاندان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے باہمی احترام، ذمہ داری، خیرخواہی اور دینی تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے ہر فرد کے کردار اور رویے کے اثرات پورے گھر پر مرتب ہوتے ہیں، اس لیے عیب جوئی سے اجتناب اور اصلاحِ احوال کے لیے محبت و خیرخواہی کو فروغ دینا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماگام، 2 اکتوبر 2026ء/ یاگی پورہ ماگام میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام مولانا گوہر حسین کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے خوشحال گھرانے کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور پُرسکون خاندان محبت، باہمی احترام، ذمہ داری کے احساس اور دینی تربیت سے تشکیل پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنی چاہیے، کیونکہ ایک فرد کی کوتاہی بھی پورے گھر کے سکون اور استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

مولانا گوہر حسین نے خاندان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسے ایک چھوٹی ریاست سے تشبیہ دی اور کہا کہ جس طرح ایک ریاست میں مختلف افراد اور ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، اسی طرح خاندان میں بھی ہر فرد کا اپنا کردار اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر گھر کے افراد اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتیں تو خاندان میں بے نظمی، اختلاف اور انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خاندان کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جسم کے ایک عضو میں درد ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اگر خاندان کا کوئی فرد نشے، برائی یا کسی دوسرے گناہ میں مبتلا ہوجائے تو اس کے اثرات صرف اسی فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔

خاندان ایک کشتی کی مانند ہے

مولانا گوہر حسین نے خاندان کو ایک کشتی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشتی میں سوار کوئی ایک شخص اس میں سوراخ کرنے لگے تو اس کا نقصان صرف اسی شخص تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پوری کشتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسی طرح خاندان کے ہر فرد کے رویے اور کردار کا اثر پورے گھر کے سکون، اتحاد اور استحکام پر پڑتا ہے۔

انہوں نے عیب جوئی سے اجتناب کی ضرورت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی خوبیوں کو نظرانداز کرکے صرف ان کی خامیوں کو بیان کرنا خاندانی تعلقات کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے اصلاحی تنقید اور عیب جوئی میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ خیرخواہی اور اصلاح کی نیت سے کی جانے والی تنقید فائدہ مند ہوسکتی ہے، جبکہ تحقیر، تضحیک اور مسلسل عیب جوئی انسان کی شخصیت اور باہمی تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اہلِ خانہ کی دینی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے

مولانا نے قرآن کریم کی آیت ﴿قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ کی روشنی میں اہلِ خانہ کی دینی تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو برائیوں سے بچانا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی دعوت دینا، نیک اعمال کی ترغیب دینا اور دینی فرائض کی تعلیم دینا خاندان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت صرف زبانی نصیحت سے نہیں بلکہ والدین کے عملی کردار سے بھی ہوتی ہے۔ گھر کا ماحول، والدین کے باہمی رویے اور ان کا دینی طرزِ زندگی بچوں کی شخصیت اور کردار کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

شہید مطہریؒ کی زندگی سے تربیتی مثال

مولانا گوہر حسین نے شہید مرتضیٰ مطہریؒ کی زندگی سے ایک تربیتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نمازِ شب کے لیے بیدار ہوتے وقت گھر کے افراد کی نیند کا خیال رکھتے اور انتہائی خاموشی سے وضو اور دیگر امور انجام دیتے تھے، جبکہ فجر کے وقت اذان دے کر گھر والوں کو نماز کی طرف متوجہ کرتے تھے۔

انہوں نے اس واقعے کو خاندانی تربیت، عملی نمونے اور دوسروں کے حقوق و آرام کا خیال رکھنے کی بہترین مثال قرار دیا۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا گوہر حسین نے کہا کہ خوشحال گھرانہ صرف مال و دولت سے وجود میں نہیں آتا بلکہ محبت، باہمی احترام، ذمہ داری، دینی تربیت اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت پر عمل اس کی حقیقی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاندان کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسے ادا کرے اور ایک دوسرے کی اصلاح خیرخواہی اور محبت کے ساتھ کرے تو گھر سکون، محبت اور خوشحالی کا مرکز بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha